شب ِ قدر کی نشانیاں احادیث کی روشنی میں

تحریر …… علامہ مشتاق احمد کمبوہ محمدی مولائی
ماہ مقدس کے آخری عشرہ میں داخل ہوتے ہی مسلمان لیلتہ القدر کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ تاکہ اس رات اللہ کو راضی کرنے والے اعمال کریں اور اللہ کی خوشنودی حاصل کر سکیں۔ یہ ہر مسلمان جاننا چاہتا ہے کہ لیلتہ القدر کی نشانیاں کیا ہیں ….. تاکہ وہ ان کو پہچان کر زیادہ سے زیادہ عبادت کریں اور قرآن پاک کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کر کے قربِ خداوندی حاصل کریں۔ شبِ قدر کی نشانیاں احادیث کی روشنی میں …. شبِ قدر کی کچھ علامات احادیث میں آئی ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرما یا …… شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے۔ جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے ان راتوں میں قیام کرے ….. اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے (تمام) گناہ بخش دیتا ہے۔ یہ رات اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں یا رمضان کی آخری رات ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلعم نے فرمایا ….. شبِ قدر کی علامات یہ ہیں کہ وہ رات صاف و شفاف اور پر ُسکون ہوتی ہے …. نہ زیادہ ٹھنڈی اور نہ زیادہ گرم (بلکہ معتدل ہوتی ہے)۔ اس رات صبح تک کسی ستارے کیلئے مناسب نہیں کہ اسے شیاطین کے پیچھے بھگایا جائے۔ اس کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کی صبح کو….. آفتاب بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے …. جیسا کہ چودہویں رات کا چاند ہو۔ اس دن کے آفتاب کیساتھ شیطان نہیں نکلتا۔ (امام احمد، طبرانی اور مقدسی) ایک حدیث میں آتا ہے، سیدنا ابی ابن کعب ّ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا: لیلتہ القدر کی صبح کو سورج کے بلند ہونے تک اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ وہ ایسے ہوتا ہے جیسا کہ تھالی (پلیٹ) ”( مسلم 762 ) اسی طرح ایک اور حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلعم نے فرمایا، تم میں سے کون اسے یاد رکھتا ہے ( اس رات ) جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے ….. جیسے بڑے تھال کا کنارہ …. ( مسلم 1170)۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں