عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ نہ جانے کس کنویں میں جا رہا ہے۔ حسین محمد پراچہ

عوامی نیشنل پارٹی ڈسٹرکٹ کیماڑی، کراچی کے صدر حسین محمد پراچہ کا خصوصی انٹرویو
انٹرویو ….. عائشہ شفیق

سیاستدانوں کیساتھ ہر انسان کی ذمہ داری ہے کہ اپنی ذمہ داریاں اور اپنے فرائض بخوبی سر انجام دیں ….. اس طرح ہمارے بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں، کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا مسئلہ ہے….. بڑھتی ہوئی آبادی کیساتھ مسائل بھی بے شمار ہیں …. کراچی ویسے بھی دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے …… غربت ختم کرنے کیلئے یا کم کرنے کیلئے چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے …… معیشت کو مضبوط کیا جائے ….. معیشت مضبو ط ہو گی تو ہمارا ملک خوشحال ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ کیماڑی عوامی نیشنل پارٹی کے صدر حسین محمد پراچہ نے ہماری ”ویب سائٹ“ کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔ حسین محمد پراچہ جو کہ یو سی 5 شیر شاہ، لیبر سکوائر، اور رشید آباد کے چیئرمین بھی ہیں۔ حسین محمد پراچہ عوامی خدمت میں کافی متحرک نظر آتے ہیں۔ دن ہو رات ان کو کسی وقت بھی کسی مسئلے کیلئے فون کال آ جائے تو وقت ضائع کئے بغیر عوامی مسائل کے حل کیلئے پہنچ جاتے ہیں ان کا کہنا ہے عوامی خدمت ایک جہاد سے کم نہیں۔ حسین محمد پراچہ نے 1980ء میں ایک شوگر انڈسٹری سے ملازمت چھوڑ کر سیاست کیطرف رخ کیا اور اب تک عوام کی خدمت میں دن رات اپنی صحت کی پرواہ کئے بغیر پیش پیش اور مثالی کام کرتے نظر آتے ہیں۔
س:۔ سر آپ کے علاقے کے کیا کیا مسائل ہیں ؟
ج:۔ ا ن علاقوں کا سب سے اہم مسئلہ پانی اور سیوریج کا ہے 35…. سال سے لوگ ٹینکرو ں کے ذریعے پانی ڈلواتے ہیں ….. جو لوگ افورڈ کر سکتے ہیں وہ لوگ ٹینکروں سے پانی حاصل کرتے ہیں ….

اور اکثریت لوگوں کی کرایوں کے گھروں میں رہ رہی ہے ان کیلئے بہت سی مشکلات ہیں اور اس طرح پانی حاصل کرنا انتہائی ناگزیر ہے وہ لوگ بیچارے جیسے تیسے گزارا کرتے ہیں۔
س:۔ کیا آپ کی آواز اوپر تک سنی نہیں جا رہی …. یہ مسائل حل نہیں ہو رہے ؟
ج:۔ کراچی میئر کے سامنے ہم نے اس مسئلے کی آواز ا ٹھائی ہے ….. وہ اس مسئلے پر سیریس ہیں …. ان علاقوں میں لائنیں بچھا دی گئیں ہیں … انشاء اللہ جلد ہی اس مسئلے کو حل کر لیا جائے گا۔
س:۔ آپ نے اپنے علاقے میں کیا کیا کام کروائے ہیں ؟

ج:۔ ہم اپنے علاقوں میں سیوریج پر کافی کام کر چکے ہیں ….. تین کر وڑ کے بجٹ سے خوبصورت پارک بنوایا ہے ….. ترقیاتی کام کافی کروائے ہیں ….. گلیوں کی پختگی کا کام کروایا ہے۔ رشید آباد کی مسجد میں جہاں 600 کے قریب نمازی نماز پڑھنے آتے ہیں …. وہاں پانی کا شدید مسئلہ تھا … وہاں سے اڑھائی ہزار فٹ کی لائن بچھا کر لوگوں کیلئے فری آف کاسٹ پانی کا مسئلہ حل کروا دیا ہے …..

وہاں کے لوگ بہت دعائیں دے رہے ہیں ….. یہ ایک صدقہ جاریہ ہے ….. مریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے ان کی صحت کے حوالے سے جہاں تک جو سہولیات ممکن ہو سکتی ہیں …. مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تمام ترقیاتی کاموں کیساتھ ساتھ ہم گھریلو جھگڑو ں اور دیگر مسائل حل بھی کرواتے ہیں۔
س:۔ دوسرے سیاستدانوں کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے … کیا کہیں گے ؟
ج:۔ جی بالکل! سیاستدانوں کیساتھ ہر انسان کا فرض ہے کہ عوام کی خدمت اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بڑھ چڑھ کر کام کریں …. عوام کی خدمت کریں۔ اس عمر میں کام کرنا کوئی مذاق نہیں ہے ….. رات کو دو بجے بھی کال آئے تو اپنی فیملی فنگشن اپنی فیملی کی

مصروفیات چھوڑ کر عوام کے مسائل حل کرنے پہنچ جاتا ہوں۔
س:۔ کراچی کے اہم مسائل کون کون سے ہیں ؟
ج:۔ کراچی دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور سب سے بڑا انڈسٹریل سٹی ہے….. جتنا بڑا شہر اتنے زیاد ہ مسائل بھی …. بڑھتی ہوئی آباد ی کیساتھ ساتھ مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ کراچی کا بھی اہم مسئلہ پانی کا ہے ….. اور دیگر مسائل میں صحت، ٹرانسپورٹ کے ان گنت مسائل ہیں۔ کراچی مختلف حصوں میں بٹا ہوا ہے….

ہر زبان کے لوگ یہاں موجود ہیں۔ ایجوکیشن کا مسئلہ بھی یہاں کا کافی سیریس مسئلہ ہے ….. سکول نہ ہونے کے برابر ہیں …. پرائیویٹ اداروں کیطرف لوگوں کا رجحان بڑھ گیا ہے ….. گورنمنٹ سکولو ں کی بلڈنگز ٹوٹ رہی ہیں۔ کراچی جو پاکستان کا انڈسٹریل سٹی ہے …. کراچی میں 80 فیصد انڈسٹریاں بند پڑی ہیں ….. لوگوں کے روزگار داؤ پر لگ گئے ہیں …. مزید انڈسٹریاں لگ نہیں رہیں ….. کراچی کی انڈسٹریز چل پڑے…. تو آپ کو مزدور نہیں ملیں گے۔ انڈسٹریز بھی بھاری بھرکم ٹیکسوں اور گیس نہ ہونے کی و جہ سے نہیں چل پا رہی۔ مہنگے بجلی کے بلوں نے بھی عوام کو پریشان کر کے رکھا ہوا ہے۔
س:۔ آپ کے خیال میں گورنمنٹ کیا کراچی کے مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی ؟
ج:۔ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب بہت اچھے کام کر رہے ہیں ….. لوگ ان کے کاموں کی تعریف کرتے

نظر آتے ہیں۔ لیکن سیاستدانوں کی اپنی لڑائیاں اپنے مسائل ہی حل نہیں ہوتے ….. ایک دوسرے پر الزام تراشی کی سیاست چلتی رہتی ہے۔ گورنمنٹ کے اپنے مسائل ….

حزب اختلاف کا اپنا رونا دھونا۔ گورنمنٹ کی اپنی ذمہ داری ہے کہ عوام کے بنیادی مسائل حل کرے۔
س:۔ بڑھتی مہنگائی کیسے کنٹرول ہو …. اس ملک کے مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں ؟
ج:۔ مہنگائی اتنی ہے نہیں جتنا واویلا مچا رکھا ہے۔ زمیندار کو دیکھیں ان کو کتنا نقصان ہو رہا ہے ….. سبزیاں بلکہ سستی بک رہی ہیں ….. زمینداروں کا نقصان کون پورا کرے گا۔ گورنمنٹ سے یہ مطالبہ ہے کہ غربت ختم کرنے کیلئے چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرے …. 36 ہزار ایک عام ورکر کی تنخواہ ہے …. ٹیکس ہی اتنے لگا دیئے جاتے ہیں …. جس سے عام آدمی

کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہو تی چلی جا رہی ہے …. ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے …. تو غر بت ختم کی جا سکتی ہے۔ اور ملک کے روزگار میں اضافہ کیا جائے …. ملکی معیشت کو مضبوط کیا جائے تو ہمارا ملک خوشحال ہو سکتا ہے۔
س :۔ کیا ہماری گورنمنٹ کام نہیں کر رہی ….. آپ کی نظر میں ہما رے سیاستدان اس ملک سے مخلص نہیں ؟
ج:۔ گوررنمنٹ کے پاس ٹیکسوں کی مد میں اربوں روپے ٹیکس کا پیسہ نہ جانے کس کنویں میں جا رہا ہے۔ پاکستان میں سب اپنی اپنی مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں ….. ملک سے لینے کے چکر میں ہیں۔ خدارا اپنے ملک سے مخلص ہو جائیں ….. ملک کیلئے کام کریں …. معاشرے کو ٹھیک کریں …. انصاف کو یقینی بنائیں …. لوگ سالہا سال عدالتوں، کچہریوں کے دھکے کھاتے ہیں …. انہیں انصاف نہیں ملتا …. امن و امان او ر انصاف کو یقینی بنائیں …. حکومت کا بنیادی فرض ہے۔ کہ ایجوکیشن، صحت پر بھر پور توجہ دے۔
س:۔ کراچی کے کسی اور اہم مسئلے کیطرف نشاندہی کرنا چا ہیں گے ؟
ج:۔ تمام تر مسائل کیساتھ ساتھ ڈومیسائل ڈبل ایڈریس پر نہیں بنائے جا رہے …. جو لوگ سالوں پہلے سے کراچی شفٹ ہوئے ہیں …. ان کے شناختی کارڈ پر ڈبل ایڈریس ہیں …

پرانے علا قوں کے اور نئے علاقو ں کے۔ یہاں دوہرا قانون ہے …. ان ڈومیسائل نہ بننے کیوجہ سے ان کو ملازمتوں میں بہت دشواری پیش آ رہی ہے۔ اس مسئلے کو فی الفور حل کیا جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں