پاکستان دنیا کی بیمار ترین قوموں میں سے ایک بیمار قوم ہے۔ ڈاکٹر شہزاد مقصود احمد بسرا

انٹرویو ……. عائشہ شفیق
زندگی اللہ تعالیٰ کا خوبصورت ترین تحفہ ہے …. اور انسان کی اچھی صحت زندگی کی تمام نعمتوں میں سے سب پیاری نعمت ہے….. تمام نعمتوں کیساتھ اس نعمت کی ہمیں بہت بہت زیادہ قدر کرنی چاہئے اگر صحت اچھی ہے ہم ہر طرح سے تندرست ہیں ….. تو زندگی کا ہر رنگ ہمیں بھلا لگتا ہے ….. جینے کو جی چاہتا ہے….. دل کے آنگن میں خوشیوں کے جل ترنگ بج اٹھتے ہیں …. چہنے کو من چاہتا ہے …. اگر خدانخواستہ جسم کے کسی ایک اعضاء کو تکلیف ہو تو وہی برداشت نہیں ہوتی …. اور ہمیں کوئی سیریس بیماری گھیر لے، جیسے شوگر، ہارٹ اٹیک، کینسر، گردوں کا فیل ہو جانا، یا کوئی بھی بیما ر ی ….. تو زندگی کے تمام رنگ بے رنگ لگنے لگتے ہیں…..

پھولوں کے تمام رنگ مرجھانے لگتے ہیں …. زندگی بے رنگ اور بے مزہ لگنے لگتی ہے …. اگر آپ صحیح طریقے سے کچھ کھا ہی نہ سکیں ….. سہی طرح اپنی نیند نہ لے سکیں …. کہیں آنا جانا آپ کا مشکل ہو جائے… آپ زندگی کے رنگوں سے لطف اندوز ہی نہ ہو سکیں …… تو وہی زندگی آپ کو بورنگ لگنے لگتی ہے…. آپ کو کچھ اچھا نہیں لگتا …. صحت سے بڑھ کر زندگی کی کوئی نعمت نہیں۔ صحت اچھی ہے تو جینے کو جی چاہتا ہے …. آپ کی فیملی خوش رہتی ہے …. اگر فیملی ممبر گھر میں ایک بھی ڈسٹرب یا کسی تکلیف میں آ جائے تو گھر کا سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے …… سب تکلیف اور مشکل میں آ جاتے ہیں۔ اس لئے خدارا بیماری آنے سے پہلے صحت کی قدر کریں۔ ہمارے ملک کے معروف ڈا کٹر …. ڈاکٹر شہزادمقصود احمد بسرا جن کا تعلق فیصل آباد سے ہے جو کہ ریٹائر پروفیسر، سابق چیئرمین ” ڈیپارٹمنٹ آف ایگرانومی“ ایگریکلچرل یونیورسٹی فیصل آباد رہ چکے ہیں۔ گذشتہ 17 سال سے لوگوں کو کچن گارڈننگ اور کھانے پینے کی عادات اور صحت مند لائف اسٹائل کے بارے میں لوگوں کا شعو ر بیدار کرنے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی کوششوں سے لوگ اس طرف آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر شہزاد مقصود احمد بسرا نہ صرف پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں….. رائٹر، کالمسٹ، شجر دوست، اور موٹیوشینل سپیکر بھی ہیں ….. بلکہ مختلف سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور ملک کے مختلف اداروں میں صحت کے حوالے سے لیکچر بھی دیتے ہیں۔ ٹی وی، ر یڈیو کے مختلف ٹاک شوز میں شرکت کرتے ہیں۔ اور سوشل میڈیا پر اور لوگوں کے دلوں میں

کافی چھائے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر شہزادمقصود احمد بسرا نے اپنا قیمتی وقت نکال کر ہماری ”ویب سائٹ“ کیلئے خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بیماریوں کو آنے دینا، پھر دوائیوں کے ذریعے انہیں ریورس کرنے کی کوشش کرنا، یہ انتہائی غلط طریقہ
ہے ….. خدارا صحت مند لائف اسٹائل اپنایا جائے …. پورشن کنٹرو ل کر کے کھانا کھایا جائے ….. ورزش کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیں ….. اگر زندہ رہنا اور صحت مند زندگی گزارنی ہے تو …… المیہ یہ ہے کہ ہم دنیا کی بد ترین بیمار قوم بنتے جا رہے ہیں ….. نہ ہمیں شعور ہے نہ ہماری کوئی ٹائمنگ ہے کیا کھانا ہے ….. کتنا کھانا ہے …. اور کب کھانا ہے …. اور بیماریوں کو ہم دعوت دے رہے ہیں ….. ان کا مزید کہنا ہے کہ خوفناک اور پریشان کن صورتحال ہسپتال کے ہسپتال اور فارمیسیاں مریضوں سے بھری پڑی ہیں …… مریضوں کے انبار لگے پڑے ہیں ….. گراؤنڈ اور کھیلوں کی سرگرمیاں مانند پڑتی جا رہی ہیں۔ اگر صحت مند قوم چاہئے ہمیں صحت مند زندگی گزارنی ہے اگر ہمیں اپنی زندگی عزیز ہے تو اپنا لائف اسٹائل تبدیل کرنا ہو گا اپنی عادات کو بدلنا ہو گا اپنی صحت پر خصوصی توجہ دینا ہو گی ….. تب ہی سب کچھ ریورس ہو سکتا ہے۔
تفصیلی انٹرویو …. نذر قارئین ہے۔
س:۔ سر بیماریاں … ہر طرف بیماریاں ہر دوسرا تیسرا شخص بیمار ہے، اس قوم کو بیمار قوم کہہ سکتے ہیں کیا کہیں گے ؟
ج:۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں ہے جو شائد نمبر….1 … ایک ڈیٹا ہے جس میں ڈکلیئر کیا گیا ہے ذیابیطس میں دنیا میں پاکستان سب سے زیاد ہ ہے۔ اور تین کروڑ آبادی بنتی ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کروائے ہیں او ر وہ لوگ جنہوں نے ٹیسٹ نہیں کروائے تو شاید یہ ڈبل ہو جائے ….

دنیا میں کہیں اتنی قوم بیمار نہیں ہے …. باقی فیٹی لیور میں بھی بہت زیادہ ہر تیسر ا بندہ شکار ہے۔ ا س کے علاوہ آرتھرائٹس پچاس سال کے بعد 80 فیصد لوگ شکار ہیں ا ور موٹاپے کا بہت شکار ہیں …. دل کے امراض سے ہسپتال بھرے پڑے ہیں ….. میرے خیال میں پاکستان دنیا کی بیمار ترین قوموں میں ایک بیمار قوم ہے۔
س:۔ تندرست انسان ہمیں اب شازو ناد ر ہی نظر آتے ہیں، ہم کہہ سکیں یہ مکمل تندرست انسان ہے، کیا خیال ہے ؟
ج:۔ آپ ہسپتال اور فارمیسیاں دیکھیں آپ کو بھری نظر آئیں گی …. پلے گراؤنڈ دیکھیں تو آپ کو خالی نظر آئیں گے، جم بھی دیکھیں وہ بھی کم نظر آئیں گے آبادی کے لحاظ سے۔ تو کھانے پینے کی عادات لوگوں کی ٹھیک نہیں ہے، کھانے پینے کی عادا ت لوگوں کی بہت غلط ہے، ٹرینڈ ہی نہیں کیا گیا لوگوں کو، کیسے کھانا ہے، کیسے رہنا ہے، اسی وجہ سے لوگ بیماریوں کا شکار زیادہ ہو رہے ہیں۔
س:۔ سر گاؤں میں دیہاتی علاقوں میں اتنی بیماریاں نہیں ہے جتنا کہ شہری لوگ، او ر شہری لوگ کی ایسی کلاس بھی جو تمام تر سہولیات کے باوجود بیماریوں کا شکار ہے ؟

ج:۔ یہ بھی ایک غلط فہمی ہے کہ دیہات کے لوگ بیمار نہیں ہے میرا چونکہ دیہات سے بہت گہرا تعلق ہے، دیہات میں جو کھیتوں میں کام کرنیوالے یا مزدور لوگ ہیں وہ صحت مند ہیں باقی جتنے لوگ ہیں وہ بھی شدید بیمار ہیں وہ بھی شہریوں سے بڑھ کر موٹاپے کا آرتھرائٹس اور شوگر کے مریض ہیں۔ گاؤں کے گاؤں بھرے پڑے ہیں شوگر کے مریضوں سے۔ اب ایسا نہ کہیں گاؤں میں اب ویسی ہی صورتحال ہے گاؤں میں اب بچے پیزا، پاستہ اور برگر ہی کھاتے ہیں اور فزیکل سرگرمیاں نہیں کرتے۔
س:۔ اب تو سر بچے اور نوجوان نت نئی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے کیا کہیں گے ؟
ج:۔ جی بالکل! اب ہسپتالوں میں دیکھ لیں دل کے مریض اب چھوٹی عمر کے بچے نظر آتے ہیں کیونکہ مائیں بیمار ہیں، بچے بھی بیمار ہیں اور بچوں کو جو خوراک دی جاتی ہے وہ بالکل خالص نہیں ہے۔ اور بچوں کے اندر قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے جب وہ دھوپ میں فزیکل گیمز کھیلیں، پاور گیمز زیادہ کرتے ہیں۔ و ہ بچے کرتے نہیں ہیں۔ ہمارے ملک کے بیشتر سکول ایسے بدترین سکول ہیں، دنیا میں ایسے سکولز نہیں ہے

جہاں گیمز نہ کرواتے ہوں، سکولوں میں گیمز کروائی جاتی ہیں۔ ہمارے ملک میں زیادہ تر چھوٹے چھوٹے سکول بنے ہوئے ہیں۔ وہاں سے ہوم ورک لیکر آ تے ہو۔ گھر بھی ہوم ورک، پھر مولوی صاحب پڑھانے آ جاتے ہیں پھر ٹیوٹر پڑھانے آ جاتا ہے۔ سکول کا کام کرتے کرتے تھک ہار کر سو جاتے ہیں۔ ہم دنیا کی بدترین قوم بنانے جا رہے ہیں۔
س:۔ سر لائف اسٹائل بدلنا کافی مشکل کام ہے، کس طرح لائف اسٹائل تبدیل کیا جائے، بیلنس لائف کس کو کہیں گے۔ کس طرح صحت مند زندگی گزاری جائے ؟
ج:۔ ان تمام بیماریوں سے بچنے کا حل صرف اور صرف صحت مند لائف اسٹائل ہے۔ میں گذشتہ 17 ,18 سال سے لوگوں کو ایجوکیٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہو ں کہ دوائیاں حل نہیں ہے کہ بیماری کو پہلے آنے دینا، پھر اس کو ریورس دوائیوں کے ذریعے کرنا، یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ صحت مند لائف اسٹائل ہو گا تو بیماریاں ہو گی نہیں۔ اس کے بعد اگر بیمار ی ہو بھی گئی تو اس کو بڑی آسانی سے قابو پا لیں گے۔ اگر نہیں کریں گے تو بیمار اور بدترین بیمار، جو صحت مند لائف اسٹائل اختیار کر لیتا ہے …. وہی بچ رہا ہے۔
س:۔ کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں یہی اہم ایشو ہے، سمجھ سے بالاتر ہے ؟
ج:۔ جو ہماری بچیوں کی عادات ہیں صبح ایک تو میدے کا بنا ہوا پراٹھا کھانا ہے اور بنا سپتی گھی کیساتھ۔ یہ دنیا کا بد ترین کمبنیشن ہے، وہ شریانوں میں جمتا ہے اور آرتھرائٹس کرتا ہے …. جسم میں سویلنگ کرتا ہے

اور انسولین مزاحمت کرتا ہے اور شوگر بڑھاتا ہے۔ اس سے جو ہٹتا ہے وہ سادہ روٹی پہ آ جاتا ہے کوئی خاص فرق نہیں ہے تیسرا یہ ہے وہ سلائس کھاتے ہیں یا پھر جو لوگ بیکری کی پروڈکٹ کھاتے ہیں۔ جیسے کیک ہیں یا کیک رس ہیں، باقر خانی وغیرہ۔ اس سے آگے جو آ تے ہیں وہ نان پر آ جاتے ہیں وہ صبح صبح کھاتے ہیں دنیا میں اس سے برا ناشتہ ہو ہی نہیں سکتا۔ دوپہر میں پھر وہی میدے جیسے روٹیاں یا نان کھانے ہیں وہی گندے مندی سبزیوں انتہائی نقصان دہ مصالحوں سے بنے سالن کیساتھ۔ اور بد ترین کوکنگ آئل یا بنا سپتی گھی میں کھانا بنانا، اور کھانا بھی ہے تو پیٹ بھر کر کھانا ہے۔ اور رات کو بھی وہی کھانا ہے، ساتھ پیزا یا جو فا سٹ فوڈز وغیرہ بہت اسٹارٹ ہو گئی ہیں۔ انتہائی لو کوالٹی کی چیزیں جو ہر جگہ بن رہی ہیں۔ اچھی جگہ پر اچھی چیزیں بھی بن رہی ہیں۔ گھر میں بنائیں تو اچھے بھی بن سکتے ہیں لیکن روٹین میں جو گلی، محلوں میں گندی ترین چیزوں سے بنا رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے تو پیسے کمانے ہیں، پھر کولڈ ڈرنکس کا اتنا زیادہ رواج ہے، جوسز کا مٹھائیوں کا اتنا رواج ہے کیک جگہ جگہ کیک شاپس ہیں۔ ان ساری چیزوں سے کیا ہونا ہے، بیمار ہی ہونا ہے۔ سارا دن جو بھی کھا رہے ہیں …. ایک سے بڑھ کر ایک برا۔
س:۔ سر ا کثریت لوگوں کی جم جاتی ہے یا جو لوگ واک کرتے ہیں، سالوں سے ایکسائز کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ ہمار ا وزن کم نہیں ہو رہا، اس کی کیا وجوہات ہیں ؟
ج:۔ کچھ لوگ جم جاتے ہیں وزن کم کرنے کیلئے، وا ک کرتے ہیں وزن کم کرنے کیلئے، ان سے زیادہ سادہ لوگ یا ذہنی طور بالکل ہی بیچارے لوگ اور کیا ہو سکتے ہیں۔ کسی ایکسائز سے وزن کم نہیں ہوتا، اور نہ ہی کسی واک سے، دنیا میں کوئی ایسی مشین نہیں بنی جو آپ کا وزن کم کر سکے۔ یہ لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ ایکسائز یا واک سے وزن کم ہو جاتا ہے۔ یا آپ کی باڈی شیپ میں آ جاتی ہے۔ ہاں بالکل باڈی تھوڑی بہت شیپ میں آتی ہے۔ صحت اچھی ہوتی ہے …. اسٹرنتھ میں آتی ہے۔ ایکسائز سے بڑھ دنیا میں چیز ہی کوئی نہیں،

وہ انسان ہی کیا جو پاور گیم نہیں کرتا۔ وزن کم ہوتا ہے صرف کیلوریز برن کرنے سے۔ ساتھ میں ایکسائز کرتے ہیں اور کم کیلوریز لیتے ہیں تو پھر وہ آئیڈیل ہے۔
س:۔ سر اکثر ڈاکٹر حضرات اور ولاگ، سوشل میڈیا میں سننے کو ملتا ہے کہ چاول، روٹی چھوڑ دی جائے ایک صحت مند لائف ہو سکتی ہے، روٹی چھوڑنا کافی مشکل کام ہے، اس کے متبادل کیا کھایا جائے، اس کے متبادل دیگر کھانےارینج کرنا بھی کافی مشکل کام ہے، کچھ لوگوں کو بھوک بھی بہت لگتی ہے، سب کیسے بیلنس کیا جائے ؟
ج:۔ بچپن سے ہی ہمیں بتایا گیا ہے اور ہمارے ٹیسٹ بڈز میں شامل ہے کہ روٹیاں ہی ہم نے کھانی ہیں،
دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے جہاں صحت مند قوم ہے، روٹی ہم نے بھی نہیں چھوڑنی، اتنے سالوں سے میں آج تک یہ بتا ر ہا ہوں، ا ور لوگ اس میں آہستہ آہستہ آ رہے ہیں، صرف گندم کی روٹی ہم نے نہیں کھانی، سوائے کیلوریز کے اس میں کچھ بھی نہیں، اس کی بجائے ملٹی گرینز روٹی پر آ جائیں جس میں جوار، باجرہ، چنے اور پتوں والی سبزیاں، دالیں، کینوا، یہ سارا مکس کر کے اس کا آٹا بنائیں۔ عام آٹے سے یہ ہزار درجے بہتر ہے۔ اس کا بھی ہر گز یہ مطلب نہیں کہ پیٹ بھر بھر کے کھائیں۔ پچھلے پندرہ سال سے میں کچن گارڈننگ کی لوگوں کو ٹریننگ دے رہا ہوں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں جا جا کر آگاہی دے رہے ہیں۔ وہ سبزیا ں اگائیں، سلاد کھائیں، سبزیاں ڈا ل کر آٹا بنا ئیں، ان سبزیوں کیساتھ انڈہ کھائیں، نہ شوگر بڑھے گی، نہ بیماریاں بڑھیں گی

اور صحت مند رہیں گے۔ چاول بھی ضرور کھائیں لیکن پورشن کنٹرول کیساتھ، جن چیزوں سے کارب بننے ہیں، جن سے شوگر بننے ہیں وہ 25 فیصد سے زیادہ آپ کی پلیٹ میں نہ ہوں۔ 25 فیصد آپ کی پلیٹ میں پروٹین ہوں، اور 50 فیصد سبزیاں اور سلاد ہوں، پکی اور کچی سبزیاں ہوں۔ اس طرف آپ کو آ نا پڑھے گا۔ صحت مند زندگی گزارنی ہے تو۔
س:۔ سر آپ کی سمارٹنس کا راز کیا ہے آپ نے اپنے آپ کو کیسے فٹ رکھا ہوا ہے ؟
ج:۔ دیکھیں! جو لو گ مجھے سن لیتے ہیں … د یکھ لیتے ہیں سب سے بڑی موٹیویشن یہی ہوتی ہے کہ میں انہیں کر کے دکھاتا ہو ں۔ ساری بیماریاں میں نے بھی عام لوگوں کی طرح بھگتیں۔ اور بیماریوں کو میں نے قدرتی طریقوں سے ٹھیک کیا۔ اور صحت مند لائف اسٹائل کو اپنا یا۔ جو لو گوں کو بتاتا ہو ں خود اس پر عمل کرتا ہوں۔ ایکٹو رہتا ہو ں ….. کچن گارڈننگ کرتا ہوں …. ورزش کرتا ہوں، جم کرتا ہوں، بھاگ دوڑ کرتا ہوں۔

سپورٹس کرتا ہوں۔ اور جو کھاتا ہوں بہت بیلنس ڈائٹ لیتا ہوں۔ جس میں تازہ سبزیاں شامل ہیں …. پروٹین اور انڈوں کا خیال رکھتا ہوں۔ ملٹی گرین کھاتا ہوں اور کینوا کھاتا ہو ں، چیا، مورینگا کھاتا ہوں۔ اس میں روٹی، چاول بھی میں کھاتا ہوں لیکن آپ کی باڈی کی ضرورت ہے اس کے مطابق، خوش رہتا ہوں، مصروف رہتا ہوں فضول منفی سرگرمیوں میں نہیں پڑتا۔ لوگوں کی جیلسی کے جواب نہیں دیتا۔ اس سے میں صحت مند رہتا ہو ں، اللہ تعالیٰ انہیں میں برکت ڈالتا ہے۔
س:۔ سر ا یک ویڈیو ایک پروگرام میں مولی، اور شلجم کو ہاتھ میں پکڑ کر آپ بتا رہے ہیں اس کو کدوکش کر کے انڈے میں شامل کر کے اس کا آ ملیٹ بنا کر کھایا جائے، انڈے کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلڈ پریشر کیلئے خطرناک ہے، اگر انڈہ کھایا جائے تو اس کی زردی نقصان دہ ہے، کیا خیا ل ہے آپ کا ؟
ج:۔ جو انسان جم آتا ہے، کوئی ایسا نہیں جو چار سے پانچ انڈے روز نہ کھاتا ہو، کسی کو بلڈپریشر نہیں
ہوتا، بلڈ پر یشر ان کو ہوتا ہے جو کھا کے بیٹھے رہتے ہیں، جو کیلوریز برن کرتے ہیں، انہیں کبھی بلڈ پریشر نہیں ہوتا۔ ایک بندہ بھی مجھے دکھا دیں جو ایکسائز کرتا ہو۔ اور ساتھ وہ تازہ سبزیاں کھاتا ہو۔ اس کو انڈے سے بلڈ پریشر ہو یا گرمی ہو۔ یہ بالکل جہالت کی انتہا ہے۔ بالکل جو سست الوجود، کاہل اور نکمے لوگ ہیں، ان کو بلڈ پریشر ہوتا ہے۔ ایکٹو بندوں کو بلڈ پریشر سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ جو شروع سے ایک تصور ہے

انڈے میں پیاز، ٹماٹر ڈال کر آملیٹ بنا لیا جائے یہ بالکل غلط ہے۔ آملیٹ میں گاجر، مولی، کدو، شلجم، ٹما ٹر، پیاز، پالک، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ پوری پلیٹ سبزیوں کی کاٹیں۔ اس کے اندر ایک دو انڈے ڈالیں۔ اس کے اوپر نمک، مرچ، مصالحے ڈال کر تو ہلکا سا اچھا آئل ڈا ل کر اس میں ایک آدھ چمچ آٹا بھی ڈالیں، بیسن ڈا ل لیں، ملٹی گرین آٹا ڈال لیں۔ وہ آپ کی ایک روٹی بھی بن جاتی ہے۔ وہ آملیٹ
بھی بن جاتا ہے اور مکمل کھانا بھی بن جاتا ہے۔
س:۔ سر روزے شروع ہو رہے ہیں، شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض روزے رکھ سکتے ہیں نہیں ر کھ سکتے، اگر روزہ رکھیں تو کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں؟ ذ را اس پر روشنی ڈالیں؟
ج:۔ اب رہی رمضان کی بات۔ جو آپ کا بیڑہ غرق کرتے ہیں وہ ہیں میٹھے شربت جو آپ پیتے ہو …. دوسرا زیادہ کھجوریں کھانے سے۔ تیسری میٹھی فروٹ چاٹ۔ یہ تین چیزیں جو رمضان میں ز یاد ہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ جو نا شتہ آپ کو بتاتا ہو ں یہی ناشتہ آپ رمضان میں کریں، خالی میدے جیسی اور پراٹھے کھانے کی ضرورت نہیں، ملٹی گرین آٹے کی روٹی لے لیں، ڈھیر ساری سبزیاں ڈال کے آملیٹ بنا لیں۔ چینی ساتھ میں استعمال نہ کریں۔ گیارہ، بارہ بجے تک آپ کو انرجی ملے گی۔ باڈی میں چربی سٹور ہو جاتی ہے وہ شام تک کام آئے گی اور وزن بھی کم ہو گا۔ پکوڑا کھا لیں، اس میں سبزیاں ڈال لیں ہلکے آئل میں بنا لیں …. چنا چاٹ گھر میں بنا لیں، کھجور ایک آدھ لے لیں۔ میٹھا تو کسی صورت میں قطعاً ضرورت نہیں۔ صرف سادہ پانی استعمال کریں۔ بعد میں نارمل کھانا کھائیں۔ یہ جو بلڈ پریشر، اور موٹاپا اور ذیابیطس ہے ان کو رمضان میں ختم کر سکتے ہیں۔

آپ شوگر فری آٹے سے پراٹھا اور آملیٹ بنا کے کھا لیں، آپ کی باڈی میں زیادہ کیلوریز نہیں جائیں گے۔ ڈائریکٹ فوڈ کے اندر جو شوگر ہے وہ آپ کے کام آئے گی۔ جو آپ کے جسم کے اندر اسٹور چربی ہے وہ اس کو استعمال کرے گا۔ کچھ نہیں ہو گا کوئی بھوک نہیں لگے گی۔ آپ نے انڈے کی شکل میں پروٹین لی ہے آپ کو کمزور ی نہیں ہو گی۔ آہستہ آہستہ آپ کی شوگر بھی ریورس ہو جائے گی۔ رات کو بھی بالکل نارمل سا کھانا کھائیں۔ آپ اپنی ان بیماریوں کو ٹھیک کر سکیں گے۔
شام تک کام آئے گی اور وزن بھی کم ہو گا۔ پکوڑا کھا لیں، اس میں سبزیاں ڈال لیں ہلکے آئل میں بنا لیں …. چنا چاٹ گھر میں بنا لیں، کھجور ایک آدھ لے لیں۔ میٹھا تو کسی صورت میں قطعاً ضرورت نہیں۔ صرف سادہ پانی استعمال کریں۔ بعد میں نارمل کھانا کھائیں۔ یہ جو بلڈ پریشر، اور موٹاپا اور ذیابیطس ہے ان کو رمضان میں ختم کر سکتے ہیں۔ آپ شوگر فری آٹے سے پراٹھا اور آملیٹ بنا کے کھا لیں، آپ کی باڈی میں زیادہ کیلوریز نہیں جائیں گے۔ ڈائریکٹ فوڈ کے اندر جو شوگر ہے وہ آپ کے کام آئے گی۔ جو آپ کے جسم کے اندر اسٹور چربی ہے وہ اس کو استعمال کرے گا۔ کچھ نہیں ہو گا کوئی بھوک نہیں لگے گی۔ آپ نے انڈے کی شکل میں پروٹین لی ہے آپ کو کمزور ی نہیں ہو گی۔ آہستہ آہستہ آپ کی شوگر بھی ریورس ہو جائے گی۔ رات کو بھی بالکل نارمل سا کھانا کھائیں۔ آپ اپنی ان بیماریوں کو ٹھیک کر سکیں گے۔

س:۔ سر ا ٓجکل تو فاسٹ فوڈ نے نوجوان نسل کا بیڑہ غرق کیا ہوا ہے ؟
ج:۔ خواتین میں زیادہ تر پریڈز کے مسائل کالج، یونیور سٹی دو ر میں ہی شروع ہو جاتے ہیں، ان کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے شادی کے بعد وہ پریگنینسی میں اور بہت سے پرابلم آتے ہیں ، ان مسائل کی اہم وجہ فاسٹ فوڈز، بہت زیادہ ڈرنکس کا استعمال۔ اور راتوں کو جاگنا، موبائل کا زیادہ استعمال۔ فزیکل سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر۔ ان تمام مسائل کا حل فاسٹ فوڈ چھوڑنا اور ریگولر کھانا کھانا ہے۔ کینوا ، مورینگا اور چیا کا استعمال کرنا ہے، ملٹی گرین آٹے کی روٹی کھانی ہے۔ ایکسائز کرنی اور رات کو وقت پر سونا ہے اسی طرح مرد اور خواتین دونوں کے ہر طرح کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
س:۔ مہینے میں ایک دو بار تو پیزا، برگر تو کھایا جا سکتا ہے ؟
ج:۔ جی بالکل مہینے میں ایک دو بار کھانے سے کوئی قیامت نہیں آ جاتی،
ہفتے میں ریگولر آپ مناسب کھانا کھا رہے ہیں ہفتے میں ایک آدھ بار کوئی مختلف کھا لیتے ہیں تو کوئی نقصان نہیں۔ اگر بچے روزانہ ہی پاستہ، برگر کھا رہے ہیں وہ بھی بازار والا۔ وہ نقصان دہ ہے۔
س:۔ چائے، کافی کا استعمال کس حد تک درست ہے ؟
ج:۔ دیکھیں ! اگر تو خالص دودھ ہے تو اس کی دودھ پتی بھی پی سکتے ہیں، وہ اتنی نقصان دہ نہیں ہے، لیکن جب پاؤڈر والے یا کیمیکل والے دودھ کی چائے پیتے ہیں ایک تو چائے کے زہریلے استعمال اپنے ہیں، کیلشم اور آئرن اور پروٹین کو با ؤنڈ کر لیتا ہے۔ بہت بد ترین کیمیکلز ان دودھ کے اندر ہوتے ہیں جو بیڑہ غرق کرتے ہیں۔ تو اس کی کوئی ضرورت نہیں اس کی بجائے فروغ دینا چاہے بلیک کافی کو۔ دنیا بھر میں بلیک کافی

پی جاتی ہے، بلیک کافی کے اتنے نقصان نہیں ہے۔ گرین ٹی یا بلیک کافی پئیں، جو گندے اور کیمیکلز ملے دودھ کی چائے کے عادی ہیں وہ انتہائی نقصان دہ ہے۔
س:۔ آخر میں کیا کہنا چاہیں گے ؟
ج:۔ کھانے کے آداب میں سب سے پہلے کہ اوور ایٹنگ نہ کریں …. اپنی ضرورت کے مطابق کھائیں اور اس کا پورشن کنٹرول رکھیں، ہمارے کھانوں میں آٹا، چینی میدے کی بنی چیزیں زیادہ ہوتی ہیں یہ سب سے کم ہونی چاہئیں۔ اور کھانوں میں پروٹین زیادہ ہونی چاہیں گوشت انڈے، دالیں، سلاد، بینز، سبزیاں۔ یہ 50 فیصد ہمارے کھانوں میں ہونی چاہئیں۔ خواہ ناشتہ، لنچ ہو یا ڈنر یا کوئی بھی پارٹی ہو، پورشن کنٹرول ہم سیکھ لیں، تو ہم صحت مند زندگی گزاریں گے۔